بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے شہر رودرا پور میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مندر کے منیجر نے ایک بزرگ مسلم مزدور پر تشدد کیا۔ رودرا پور میں واقع اتریہ مندر کے قریب خالی زمین پر ظہر کی نماز ادا کرنے والے شاہد نامی یومیہ اجرت والے مزدور کو مندر کے منیجر اروند شرما نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے اور سوشل میڈیا پر نمازی پر حملہ کے حوالے سے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین سخت غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
“How dare you offer Namaz on Brahmin’s land?”
Shahid, A daily labour who was praying in an open field in Rudrapur, Uttarakhand, was kicked, beaten, made to apologize, and forced to chant ‘Jai Shri Ram’.
The person seen beating him was Arvind Sharma, Temple Manager. A complaint… pic.twitter.com/SGCjPmn4Mp— Mohammed Zubair (@zoo_bear) February 25, 2026
تاہم عینی شاہدین اور ویڈیو فوٹیج کے مطابق اروند شرما نے مبینہ طور پر ‘برہمن کی زمین’ کا دعویٰ کرتے ہوئے شور مچانا شروع کر دیا۔ اس نے نہ صرف بزرگ مزدور کو جسمانی طور پر زخمی کیا بلکہ اسے اپنی مرضی کے مذہبی نعرے لگانے پر بھی مجبور کیا۔ اسی دوران وہاں موجود کچھ افراد نے مداخلت کی کوشش کی لیکن ملزم مشتعل رہا۔ مزید یہ کہ یہ واقعہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران پیش آیا جس نے معاملے کی حساسیت اور سنگینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب مقامی پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی اروند شرما کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس نے حملے، ڈرانے دھمکانے اور مذہبی دشمنی کو فروغ دینے کی دفعات شامل کی ہیں لیکن تاحال ملزم کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ زمین کے مالکانہ حقوق کے تنازع کی تحقیقات کر رہے ہیں جس کے بعد مزید قانونی کارروائی ہوگی۔ اس کے علاوہ مقامی برادری نے اس وحشیانہ فعل کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے ملزم کو فوری سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس واقعے پر عوامی ردعمل دو حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ ایک طرف انسانی حقوق کے علمبردار اس پر تشدد کارروائی کو مذہبی آزادی پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف مندر کی انتظامیہ زمین کے حقوق کا دفاع کر رہی ہے۔ تاہم قانون کے ماہرین کا ماننا ہے کہ زمین کا کوئی بھی تنازع ہو، کسی فرد کو قانون ہاتھ میں لے کر تشدد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بھارت میں حالیہ دنوں میں نمازی پر حملہ جیسے واقعات کی خبریں سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔

