ایران پر حملے: مشرقِ وسطیٰ میں آپریشن ‘ایپک فیوری’ سے بڑی تبدیلی

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: آپریشن ایپک فیوری کی تفصیلات

امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کے خلاف مشترکہ طور پر ‘آپریشن ایپک فیوری’ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس بڑے فوجی ایکشن کے دوران تہران سمیت ایران بھر میں ایک ہزار سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی اہم تنصیبات اور بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

اس آپریشن کے دوران تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر بھی حملہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں سپریم لیڈر، ان کی اہلیہ منصورہ خوجستہ اور ان کی پوتی محمد زاہرہ جان بحق ہو گئے ہیں۔ ان فضائی حملوں نے خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔

آپریشن کے دوران پہنچنے والے نقصانات اور ہلاکتیں

فضائی کارروائیوں میں ایران کے 49 اہم ترین سیاسی و عسکری رہنماؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق خلیج فارس میں ایرانی ڈرون کیریئر ‘IRIS شاہد باقری’ کو بھی نشانہ بنا کر ڈبو دیا گیا ہے۔ یہ بحری جہاز ایرانی ڈرون ٹیکنالوجی کا ایک اہم ستون تصور کیا جاتا تھا۔

دوسری جانب ایران نے ان حملوں کا جواب دینے کے لیے میزائل فائر کیے ہیں۔ تہران کے جوابی میزائل حملوں کے نتیجے میں چار امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس وقت پورے خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور دفاعی ماہرین اسے تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

ایران پر حملے اور عالمی معیشت پر اثرات

یہ فوجی آپریشن ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پہلے ہی غیر مستحکم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ ایران کی دفاعی تنصیبات پر حملوں سے خطے میں موجود دیگر ممالک کی سیکیورٹی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

تاریخی طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی دہائیوں پر محیط ہے، مگر براہِ راست قیادت کو نشانہ بنانا ایک غیر معمولی قدم ہے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان پراکسی وار جاری تھی، لیکن اب یہ تنازع براہِ راست تصادم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *