نیپا وائرس خطرہ: کیا یہ بیماری عالمی وبا بن سکتی ہے؟

نیپا وائرس خطرہ اور عالمی ادارۂ صحت کا جائزہ

ابتدائی صورتحال اور عالمی تشویش

بھارت میں نیپا وائرس کے حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد نیپا وائرس خطرہ ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بن گیا۔ جنیوا میں عالمی ادارۂ صحت نے صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے تازہ مؤقف سے آگاہ کیا۔ ادارے کے مطابق موجودہ حالات میں عالمی سطح پر فوری خطرہ محدود دکھائی دیتا ہے۔

صحت کے عالمی ماہرین صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خطے میں نگرانی کا نظام فعال رکھا جا رہا ہے۔

نیپا وائرس خطرہ پر عالمی ادارۂ صحت کا مؤقف

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ بھارت میں سامنے آنے والے دو کیسز سے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا امکان کم ہے۔ ادارے کے مطابق اس مرحلے پر سفری یا تجارتی پابندیوں کی ضرورت نہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ انسان سے انسان میں تیز رفتار منتقلی کے شواہد موجود نہیں۔ نگرانی اور کنٹرول اقدامات مؤثر انداز میں جاری ہیں۔

بھارت میں صحت نظام اور نگرانی

عالمی ادارۂ صحت نے بھارتی حکام کی وبائی امراض سے نمٹنے کی صلاحیت پر اعتماد ظاہر کیا۔ ادارہ بھارتی وزارتِ صحت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

وائرس کی منتقلی اور طبی اثرات

نیپا وائرس عام طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں سے منتقل ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں سور جیسے جانور بھی ذریعہ بنتے ہیں۔ وائرس بخار اور دماغی سوزش پیدا کر سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کا باقاعدہ علاج موجود نہیں۔ ویکسین پر تحقیق جاری ہے۔

عالمی سطح پر خطرے کا جائزہ

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق نیپا وائرس قریبی اور طویل رابطے سے پھیلتا ہے۔ عام آبادی کے لیے مجموعی خطرہ کم سمجھا جاتا ہے۔

ادارے نے بتایا کہ وائرس بھارت اور بنگلہ دیش میں چمگادڑوں کی آبادی میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے مکمل خطرے کی نفی ممکن نہیں۔

ماضی کے کیسز اور حالیہ صورتحال

حالیہ کیسز بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں سامنے آئے۔ متاثرہ ہیلتھ ورکرز اس وقت زیر علاج ہیں۔

ماضی میں کیرالہ میں بھی نیپا وائرس کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ان واقعات نے صحت حکام کو مزید محتاط بنا دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *