آئی سی سی کی درخواست اور چیئرمین پی سی بی کا اقدام
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے پاک بھارت میچ کے حوالے سے وزیراعظم سے دوبارہ رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی سی سی نے پاکستان سے بھارت کے خلاف کھیلنے کی درخواست کی ہے۔ محسن نقوی آئندہ ایک دو روز میں وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کریں گے۔
اس ملاقات میں وہ آئی سی سی کی درخواست پر وزیراعظم سے نئی ہدایات لیں گے۔ حکومتِ پاکستان نے پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت سے نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب اس حساس معاملے پر حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف خود کریں گے۔
لاہور میں آئی سی سی حکام کے اہم مذاکرات
لاہور میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور محسن نقوی کے درمیان طویل مذاکرات جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی شریک ہیں۔ فریقین کے درمیان یہ ملاقات تین گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔
چیئرمین پی سی بی کا تمام تر فوکس بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے پر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ تمام فریقین اس وقت کسی درمیانی راستے کی تلاش میں مصروف ہیں۔
پاک بھارت میچ پر حکومتی موقف کی وضاحت
محسن نقوی نے عمران خواجہ کو دوٹوک جواب دیا ہے کہ پاک بھارت میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ حکومت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف کھیلنے یا نہ کھیلنے کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہے۔ پی سی بی اس معاملے میں خود کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
عالمی کرکٹ باڈی پاکستان کو بھارت کے خلاف میدان میں اتارنے کے لیے منانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ تاہم پاکستانی حکام اپنے اصولی موقف پر سختی سے قائم ہیں۔ حکومتی ہدایات کے بغیر پی سی بی کوئی بھی نیا وعدہ کرنے سے گریز کر رہا ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی پاکستان سے ملاقات
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے بھی محسن نقوی سے خصوصی ملاقات کی۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
پاکستان نے حالیہ بحران میں بنگلہ دیش کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ امین الاسلام نے اس تعاون کو ایشیائی کرکٹ کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ اس ملاقات سے دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے خدشات
آئی سی سی کو خدشہ ہے کہ پاکستان کے نہ کھیلنے سے ورلڈ کپ کی رونق متاثر ہوگی۔ اسی لیے عالمی کونسل پاکستان کو قائل کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہی ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کھیل میں سیاست اور زیادتی کو جگہ نہیں ملنی چاہیے۔
شائقین کرکٹ اب وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ آنے والے چند دن پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ کیا پاکستان اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے یا کوئی لچک دکھاتا ہے، یہ جلد واضح ہو جائے گا۔

